آج کی بڑی خبر،: الطاف حسن انتقال کر گئے
صبح کا وقت تھا۔ وہی معمول: ایک ہاتھ میں چائے، دوسرے میں موبائل… اور نیند ابھی تک پوری طرح کھلی بھی نہیں
تھی۔
میں نے جیسے ہی نیوز ایپ کھولی پہلا نوٹیفکیشن دل کو جیسے ایک لمحے کو تھام گیا۔
“سینئر صحافی اور ادیب الطاف حسن قریشی 94 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے”
ایک عجیب سی خاموشی پورے کمرے میں پھیل گئی۔ ایسا لگا کسی بہت پرانے اور معتبر ستون کو گر کر زمین میں دھنسے ہوئے دیکھ لیا ہو۔
یہ خبر میرے لیے اتنی ذاتی کیوں لگی؟
یہاں ایک بات صاف کر دوں: میں کبھی الطاف حسن قریشی سے عام زندگی میں نہیں ملا۔
لیکن جن لوگوں نے اردو میگزینز، خاص طور پر Urdu Digest پڑھ کر بڑے ہوئے ہیں… وہ سمجھتے ہیں کہ قریشی صاحب کسی گھر کے بزرگ جیسے تھے۔
میں خود بھی انہی لڑکوں میں سے ایک ہوں۔
میرے والد ہر مہینے دو چیزیں خرید کر لاتے تھے:
ایک بیکری کا رس
اور Urdu Digest
میں نے کمپیوٹر، ٹیکنالوجی، سیاست اور سماجی شعور—ہر چیز کی "پہلی حقیقت" انہی صفحات سے سیکھی۔
ان تحریروں نے مجھ جیسے ہزاروں نوجوانوں کی لفظوں سے دوستی کروائی۔
اسی لیے آج جب یہ خبر ملی، ایسا لگا جیسے بچپن کا ایک حصہ اچانک fade-out ہو گیا ہو۔
خبر کی تفصیل — لیکن ایک انسان کی نظر سے
مختصر سی بات یہ ہے کہ:
وہ کچھ عرصے سے بیمار تھے
آج صبح انتقال کر گئے
نمازِ جنازہ کل (اتوار) بعد از نمازِ ظہر جامعہ اشرفیہ لاہور میں ادا کی جائے گی
پیچھے پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں سوگوار چھوڑ گئے ہیں
ایک زمانے تک وہ Urdu Digest کے ایڈیٹر اِن چیف رہےz
کئی مشہور کتابوں کے مصنف بھی تھے
لیکن یہ محض لائنیں نہیں ہیں۔
ہر جملے کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے۔
جب میں نے پہلی بار ان کی تحریر سمجھنے کی کوشش کی
میں دس یا گیارہ سال کا تھا جب پہلی بار ان کی کوئی تفصیلی تحریر پڑھنے کی کوشش کی۔
صاف بتاؤں… کچھ سمجھ نہیں آیا۔
اردو مشکل نہیں تھی — سوچ بڑی تھی، مضمون گہرا تھا۔
لیکن اسی دن میں نے سیکھا کہ اچھی تحریر سمجھنے کے لیے ذہن کو بڑا کرنا پڑتا ہے، زبان کو نہیں۔
یہ وہ سبق ہے جو آج میں بلاگ لکھتے ہوئے روز استعمال کرتا ہوں۔
آج کی خبر نے مجھے کیا چیز یاد دلائی؟
میری ٹیک دنیا میں یہ ایک عام غلطی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں صرف gadgets، AI tools، apps یا new updates ہی اہم ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ الفاظ—اور انہیں چلانے والے لوگ—اصل طاقت ہوتے ہیں۔
قریشی صاحب جیسے لوگ ہی وہی ”اصل سسٹم“ تھے جنہوں نے ایک پوری نسل کو سوچنے کا طریقہ سکھایا۔
اور ہاں… یہ سسٹم کبھی outdated نہیں ہوتا۔
میں نے یہ خبر کیسے verify کی؟ (واقعی اہم پوائنٹ)
ایسا ہوتا ہے کہ کسی مشہور شخصیت کے انتقال کی فیک خبریں بھی بہت پھیلتی ہیں۔
اس لیے میں نے جلدی میں پوسٹ نہیں لکھی۔ پہلے:
✔️ 1. Dawn، Nawaiwaqt اور Nation جیسے نیوز پورٹلز
✔️ 2. صحافیوں کے X (Twitter) آفیشل ہینڈلز
✔️ 3. اہلِ خانہ کا بیان
تینوں جگہ تصدیق کے بعد ہی میں نے یقین کیا۔
یہاں اگر آپ بھی ایسا کوئی حساس خبر دیکھیں تو یہ طریقہ لازمی اپنائیں۔
ایک غلط خبر آگے بڑھانا نقصان کر سکتی ہے—یہ چیز میں نے پہلے ایک غلط شیئر کرکے سیکھا تھا۔
اور ہاں، Google News app کی alerts کافی مددگار رہتی ہیں—اگر آپ نیوز مانیٹرنگ کرتے ہیں تو اسے لازمی استعمال کریں۔
اردو جرنلزم کا وہ زمانہ جو شاید اب دوبارہ نہ آئے
آجکل تو AI content، auto-generated articles، clickbait headlines… ہر چیز مشین جیسی ہو چکی ہے۔
لیکن قریشی صاحب کے دور میں:
مضمون لکھنے میں مہینے لگتے تھے
fact-checking کاغذ اور فائلوں سے ہوتی تھی
کتابیں لائبریری سے ملتی تھیں، PDF نہیں
editor کی ایک نظر پوری کہانی کا رخ بدل دیتی تھی
آپ ان کے پرانے انٹرویوز سنیں تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ journalism کو پیشہ نہیں بلکہ امانت سمجھتے تھے۔
یہ attitude اب نایاب ہوتا جا رہا ہے۔
اگر آپ لکھاری ہیں یا بلاگنگ شروع کر رہے ہیں، تو یہ 5 سبق ہمیشہ یاد رکھیں
میں بطور ٹیک بلاگر واقعی مانتا ہوں کہ یہ سبق ہمیشہ کام آتے ہیں۔
یہ وہ چیزیں ہیں جو میں نے ان بڑے لوگوں کی تحریروں سے اخذ کیں:
1️⃣ لکھنے سے پہلے سوچیں—لکھتے ہوئے نہیں
قریشی صاحب سوچ لکھتے نہیں تھے، لکھنے سے پہلے سوچ لیتے تھے۔
2️⃣ مشکل بات کو آسان بنانا اصل فن ہے
Tech blogging میں یہی سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
3️⃣ تحریر کا لہجہ شخصیت کی نشانی ہوتا ہے
جتنا سچا لہجہ، اتنی زیادہ اثر انگیزی۔
4️⃣ consistency کسی بھی talent سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے
Urdu Digest کی مسلسل دہائیوں کی پبلشنگ اس کی مثال ہے۔
5️⃣ ادب اور علم وقت کے ساتھ پرانا نہیں ہوتا—بلکہ زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے
اسی لیے ان کی کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔

Leave a Comment